اقرار بھی ہے پہلے سی وحشت نہیں رہی
دل پارسا رہے گا ‘ ضمانت نہیں رہی
یہ شہر اِک فریب میں پھر مبتلا ہوا
کچھ خواب اور کوئی بشارت نہیں رہی
کیا کیا فریب کھائے ہیں ہم جیسے سادہ دِل
پہلے کے جیسی خود سے قرابت نہیں رہی
بے نام سا اُجاڑ ہے اور نامرادیاں
رنج ایسے ایسے آنکھ میں حیرت نہیں رہی
اے رنجِ رایگاں نیا اِک دشت ڈھونڈلے
’’دل میں غبار ہونے کی طاقت نہیں رہی‘‘
سورج تو جل رہا ہے اُسی آن بان سے
پہلے کے جیسی پر وہ تمازت نہیں رہی
ملتے ہیں روز اب بھی ملاتے ہیں ہاتھ بھی
بس حاضری ہے اب وہ عبادت نہیں رہی
اُمید کا کیا کیجیے وہ مر نہیں رہی
اور سوچنے کو عظمی بشارت نہیں رہی
